یہ بارش ہے، محبت کی
Poet: Azad By: Muhammad Zubair, Multanچلو سوچیں
چلو ہم مل کے سب سوچیں
بھلا وہ کون سی شے ہے
جو انسان کو کسی انسان کے پہلو میں بٹھاتی ہے
انہیں نزدیک لاتی ہے، انہیں اپنا بناتی ہے
دلوں کو نرم کرتی ہے، وہاں کلیاں کھلاتی ہے
یہ بارش ہے، محبت کی
تعلق کی، رفاقت کی
توجہ کی، عنایت کی
جو ذہنوں پر برستی ہے، جو صحن دل میں ہوتی ہے
محبت منتشر لوگوں کو مالا میں پروتی ہے
یہی وہ آب زم زم ہے جس کی خیر و برکت سے
ہمارے دل صفا ہوتے ہیں نفرت سے، کد ورت سے
چلو پھر ہم سبھی مل کر
خدا کی اس زمین پر یہ محبت عام کر جائیں
کہ مرنا تو مقدر ہے ، مگر مرنے سے پہلے کوئی
ڈھنگ کا کام کر جائیں
سعادت اس بھلائی کی، ہم اپنے نام کر جائیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






