یہ بھی پیار ہے
Poet: By: Hukhan, karachiاکثرکہتا ہوں اس سے
نہ یوں لڑا کرو
کمزور ہوں دکھتا مضبوط ہوں
ٹوٹا تو بکھر جاؤں گا خوابوں کی طرح
بکھرا تو بس لوٹ کے نہ آؤں گا
وہ سمجھتا ہے کہ یہ بھی پیار ہے
دلِ نادان پہ اعتبار ہے
سوچتاہوں کیسےسمجھاؤں
میں نہیں دسمبر جو لوٹ آؤں گا
نہ میں ساون جو برس جاؤں گا
میں تو زرد سی ہوا ہوں
خاموشی سے گزرجاؤں گا
جان لو اتنا
زندگی دھوپ اور تم گھنا سایہ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






