شیرنی

Poet: By: Hukhan, karachi

اچھاآج مان جاتے ہیں
کچھ منا لیتے ہیں
آنکھوں کو نیا خواب دے جاتے ہیں
کچھ نقد کچھ ادھار لیے جاتے ہیں
کچھ یادیں کچھ مسکراہٹیں دے جاتے ہیں
دن ہو یا رات اب وہ یاد آتے ہیں
ہم بھولیں تو وہ یاد دلاتے ہیں
کبھی پیار کبھی ان سے ڈانٹ کھاتے ہیں
ہاں بس پھر وہ مسکرا دیتے ہیں
زندگی یوں ہماری روشن کیے جاتے ہیں
ہم ڈر جائیں تو وہ ہمت دلاتے ہیں
ہرلفظ سے وہ ہمیں جان جاتے ہیں
جی‘‘بولیں تو وہ قربان ہوئے جاتے ہیں
بولیں ‘‘ہاں‘‘تو وہ سب سمجھ جاتے ہیں
کوئی ماہ جبین ہو سامنے وہ شیر بن جاتے ہیں
کیسے بچا جائے حسینوں سے روز سمجھاتے ہیں
ہماری ہر نہ کو ہاں میں بدل جاتے ہیں
بس یہی ہے اب کچھ روز خود کو ہم سمجھاتے ہیں
سچ ہے خان اب تو اسی کے لیے جیے جاتے ہیں

Rate it:
Views: 576
12 Sep, 2017
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL