یہ دل شاعر سا ہو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillسفر آسان ہو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
میں تیرے ساتھ کھو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
بہت سی رنجشیں ایسی ہیں کہ جن پر ندامت ہے
میں سارے داغ دھو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
بھلا کر زندگانی کی سبھی سوچیں سبھی فکریں
تیرے پہلو میں سو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
تیرے فردا کے لمحوں سے مہک کیسے نہ پھر اٹھتی
میں ایسے خواب بو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
تیرے دامن میں آ کر زندگی سیراب ہو جاتی
اسے میں یوں بھگو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
تیرے ہر ایک لمحے میں میں اپنے پیار کے صدقے
کئی صدیاں سمو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
تیری یادوں میں خوشبو چاند تارے تتلیاں جگنو
نہ میں کیا کیا پرو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
ابھی تک دھڑکنیں جسکی فقط نثری سی لگتی ہیں
یہ دل شاعر سا ہو جاتا اگر تو مل گیا ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






