تھک کے گر جائیں گے صحرا میں سفر چھوڑیں گے
Poet: syed aqeel shah By: syed aqeel shah, sargodhaتھک کے گِر جائیں گے صحرا میں سفر چھوڑیں گے
قحط پڑتے ہی پرندے سبھی گھر چھوڑیں گے
تھک کے ڈوبے گا کہیں دن کا ستایا سورج
شام کو سائے اداسی میں شجر چھوڑیں گے
نسلِ آدم سے بقا میں ہے وجودِ ہستی
ختم ہو جائے گی دنیا جو بشر چھوڑیں گے
اپنے الفاظ کی زد میں سے بچا رکھ مجھ کو
حادثے ہونگے تو پھر دُور اثر چھوڑیں گے
ترکُ دنیا کا یہ پردہ وہ فقیروں کے لباس
بھوک بڑھتے ہی یہ درویش نگر چھوڑیں گے
اُس کو کھونا تو نہ آساں تھا زمانے میں عقیل
چھوڑنا موت کے جیسا ہے مگر چھوڑیں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






