یہ سب سویرا کی نزر نہیں ہے
Poet: M,Asghar mirpuri By: M,Asghar MIRPURI, Birminghamایسا رائی ہوں جس کا ہم سفر نہیں ہے
مجھے منزل کی بھی کوئی خبر نہیں ہے
جسے مانگا تھا خداسے وہی نہیں ملا
شاید میری دعاؤں میں اثر نہیں ہے
میں اپنے پیارے یار کو کیسے مناؤں
جو میری خطاؤں کو کرتا درگزر نہیں ہے
یہ اس کا تغافل ہے یا نا جانے کیا
یہ نہیں کے اسے میرےحال کی خبر نہی ہے
ایک دن اسے میرا خیال آئے گا ضرور
اس کا دل موم ہے کوئی پتھر نہیں ہے
میرا شہر اس کے لیے اجنبی تو نہیں
مگر وہ بھول کر بھی آتا ادھر نہیں ہے
میں جیتے جی تجھے کیسے بھول جاؤں
اتنا پتھر دل تو تیرا یہ یار اصغر نہیں ہے
اصغر جو کچھ بی لکھتا ہےسب فرضی ہے
کچھ بھی محترمہ سویرا جی کی نذر نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






