یہ ستم
Poet: By: Hukhan, karachiوہ بھولتا ہی نہیں کچھ بھی کر لو
دل پرکوئی بھی ستم بار بار کر لو
ایسا چراغ جلا ہے پیار کا خواہ کچھ بھی کرلو
اسے بھولنے کا کوئی بھی جتن کرلو
ہاں یہ ستم باربار کرلو
دل کہتاہے خواہ کچھ بھی جناب اب کرلو
دل کی روشنی کتنی بھی کم کر لو
جو بن گئی اسکی تصویر کتنی بھی مدھم کرلو
اس کی تصویر کو کیوں نہ زمین میں دفن کرلو
ہاں یہ ستم بار بار کرلو
نہیں اب وہ ہو گا دور دل سے جومرضی حضور کرلو
جتنامرضی اپنا پیار کم کر لو
خان اب نہیں بس میں تمہارے کچھ بھی کرلو
آسان سا ہے رستہ ہار کے دل اپنا دونوں کی جیت امر کر دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






