یہ سمندر جو پر سکوں نظر آتا ھے
Poet: AIK BANDA By: AIK BANDA, London uk دوستوں۔۔۔ یہ سمندر جو پر سکوں نظر آتا ھے
اپنے اندر یہ بہت کچھ چھپاتا ھے
یہ نظر کا دھوکا ھے کہ بظاھر اسے کچھ دکھ نہیں
اپنی تہہ میں غموں کی تہہ لگاتا ھے
جب غم بڑھ جاتے ھیں تو ساحل سے ٹکراتا ھے
دیکھنے والوں کو یہ منظر بھی خوب لبھاتا ھے
بنو سمندر کی مانند اے دوستوں
جو خزانوں کی ما نند غم بھی چھپا تا ھے
دوستوں۔۔۔ یہ سمندر جو پر سکوں نظر آتا ھے
اپنے اندر یہ بہت کچھ چھپاتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






