برا لگتا ہے جب اسے کوئی کچھ کہتا ھے
Poet: AIK BANDA By: AIK BANDA, Londonبرا لگتا ہے جب اسے کوئ کچھ کہتا ھے
وہ کچھ بھی ہے لیکن میرا اپنا ھی لگتا ھے
غلطی میری ھی تھی کہ میں اسے طلب کر بیٹھا
وہ تو مانند چاند تھا میں کیا غلطی کر بیٹھا
اس کو دل میں بسانا تو جرم نہیں
اگر جرم ھے تو میں کئ بار کر بیٹھا
دنیا والے جب بھی اس پر طنز کرتے ہیں
میرے دل پر جیسے تیر چلا کرتے ھیں
لوگ اسے چاھیں مجھے اچھا لگتا ھے
ھو سب کا وہ محبوب مجھے اچھا لگتا ھے
میری دعاؤں کا وہ ھی مرکز ھو
اسکی طلب سے پہلے سب کچھ حاضر ھو
یہ نہ سمجھنا کہ مجھے وفا نہیں
کسی کو ایثار کر دینا بھی تو جفا نہیں
برا لگتا ہے جب اسے کوئی کچھ کہتا ھے
وہ کچھ بھی ہے لیکن میرا اپنا ہی لگتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






