یہ سوچتا ہوں چراغوں کا اہتمام کروں
Poet: محشر آفریدی By: رابعہ, Quettaیہ سوچتا ہوں چراغوں کا اہتمام کروں
ہوا کو بھوک لگی ہے کچھ انتظام کروں
ہر ایک سانس رگڑ کھا رہی ہے سینہ میں
اور آپ کہتے ہیں آہوں پہ اور کام کروں
ابھی تو دل کی قیادت میں پاؤں نکلے ہیں
تلاش عشق رکے تو کہیں قیام کروں
خطا معاف مگر اتنا بے ادب بھی نہیں
بغیر دل کی اجازت تمہیں سلام کروں
فقیر عشق ہوں کشکول دل میں حسرت ہے
گداگری کا محاصل بھی تیرے نام کروں
مرے جنون کو سہرہ ہی جھیل سکتا ہے
کہیں جو شہر میں نکلوں تو قتل عام کروں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






