تیرے خاموش تکلم کا سہارا ہو جاؤں

Poet: محشر آفریدی By: راحیل, Rawalpindi

تیرے خاموش تکلم کا سہارا ہو جاؤں
تیرا انداز بدل دوں ترا لہجہ ہو جاؤں

تو مرے لمس کی تاثیر سے واقف ہی نہیں
تجھ کو چھو لوں تو ترے جسم کا حصہ ہو جاؤں

تیرے ہونٹوں کے لیے ہونٹ میرے آب حیات
اور کوئی جو چھوئے زہر کا پیالہ ہو جاؤں

کر دیا تیرے تغافل نے ادھورا مجھ کو
ایک ہچکی اگر آ جائے تو پورا ہو جاؤں

دل یہ کرتا ہے کہ اس عمر کی پگڈنڈی پر
الٹے پیروں سے چلوں پھر وہی لڑکا ہو جاؤں

اپنی تکلیم کا کچھ ذائقہ تبدیل کروں
تجھ سے بچھڑوں میں ذرا دیر ادھورا ہو جاؤں

دل کہ صحبت مجھے ہر وقت جواں رکھتی ہے
عقل کے ساتھ چلا جاؤں تو بڈھا ہو جاؤں

اس قدر چیختی رہتی ہے خاموشی مجھ میں
شور کانوں میں اتر جائے تو بہرا ہو جاؤں

تیرے چڑھتے ہوئے دریا کو پشیماں کر دوں
تجھ کو پانے کے لئے ریت کا صحرا ہو جاؤں

آپ ہستی کو ترے شوق پہ قربان کروں
تو اگر توڑ کے خوش ہو تو کھلونا ہو جاؤں

Rate it:
Views: 1152
18 Jan, 2022
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL