یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم۔۔ گیت
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanیہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
چمن میں فصل کانٹوں کی کبھی بونے نہ دیں گے ہم
یہ وعدہ ہے نبھائیں گے وفا کی ریت کو جانم
تمھیں بانہوں میں لے کر پیار دیں گے ہر گھڑی،ہر دم
کسی بھی بات پر تم کو کبھی رونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
سفر میں چور ہو کر ہم کبھی واپس نہ آئیں گے
پکڑ کر ہاتھ منزل کی طرف بڑھتے ہی جائیں گے
تمھیں گرد سفر میں پل کو بھی کھونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
ملن کی رات قسمت پاس لائے گی تمھیں جاناں
رہے گی بے قراری صبح ہونے تک ہمیں جاناں
یہ سوچاہے تمھیں بھی رات بھر سونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
یہ طے ہے اپنی چاہت پہ ستم ہونے نہ دیں گے ہم
چمن میں فصل کانٹوں کی کبھی بونے نہ دیں گے ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






