یہ پیار عشق محبت
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiیہ پیار عشق محبت خلوص عام نہ ہوتے
یہ بے تحاشا کبھی شہر میں غلام نہ ہوتے
غریب لوگ کبھی بھوک سے نہ مرتے ادھر پھر
برے اگر یہ حکومت کے انتظام نہ ہوتے
خلوصِ پیار سے گرکام کرتے سب یہاں پر لوگ
رقیب کوئی نہ بنتا یہ انتقام نہ ہوتے
پکار لیتے کسی اور نام سے ہی صنم کو
زبان رد یہ کبھی چرچے ہوئے عام نہ ہوتے
جنونِ عشق میں جذبات اپنے بس میں کہاں تھے
کبھی نہ ہوتی یہ رسوائی ہم کلام نہ ہوتے
کئی دنوں سے ہوں مصروف بعد میں ہی ملوں گا
چلا ہی آتا میں دو چار گر یہ کام نہ ہوتے
گناہ گار لکھے جاتے گر کبھی یہاں عاشق
سنہری لفظوں میں شہزاد پھر یہ نام نہ ہوتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






