ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻢ ,
Poet: By: Rania Ch, Lahoreﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻢ
ﺳﺒﮭﯽ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﮬﻮﺍﮞ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺍﮌﺍ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺍﮔﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺩﮬﻮﭖ ﺑﻦ ﮐﮯ ﮔﺮﺍ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺷﺎﻡ ﺑﻦ ﮐﮯ ﭼﮭﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻢ
ﮐﺒﮭﯽ ﭼﺎﻧﺪﺑﻦ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺎﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺴﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺎﻧﺴﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺑﺴﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﺴﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎ ﮐﺮﻭ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻢ
ﮐﺒﮭﯽ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﺍ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺗﻢ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺳﭙﻨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﻼ ﮐﺮﻭ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻢ
ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺱ ﺑﻦ ﮐﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺑﻨﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﻼ ﮐﺮﻭ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻢ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺭﺷﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺗﻢ ﮐﭽﮫ ﮔﻠﮧ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﺍﮎ ﻧﯿﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﮐﺮﻭ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻢ
ﮐﺒﮭﯽ ﻟﮩﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺳﺎﺣﻠﻮﮞ ﭘﮧ ﻣﻼ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﻮ ﮨﯽ ﯾﺎﺩ ﺁﯾﺎ ﮐﺮﻭ
ﮐﺒﮭﯽ ﺧﯿﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ
ﻣﯿﺮﮮ ﮨﻤﺴﻔﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺗﻢ
ﺳﺒﮭﯽ ﻣﻮﺳﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﮐﺮﻭ
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا
کسی نے دَرد کو سَڑکوں پہ پھر عُریاں لِکھا ہے
یہ کیسا دَور آیا ہے، یہ کیسا اِمتحاں آیا
کہ ہر سَچ بولنے والے پہ اِک زِنداں لِکھا ہے
نہ ماؤں کی دُعائیں ہیں، نہ بَچّوں کی ہَنسی باقی
فضاؤں نے ہر اِک چہرے پہ اِک طُوفاں لِکھا ہے
کبھی راولاکوٹ رویا، کبھی کوئی نگر رویا
سِتم کی داستاں نے خود کو پھر دہراں لِکھا ہے
یہاں طاقَت کے اِیوانوں میں فیصلے اور ہوتے ہیں
مگر مَحروم لوگوں نے اَلگ فَرمان لِکھا ہے
وہ کہتے ہیں کہ خاموشی ہی اب تَقدیر ہے اَپنی
مگر اہلِ وَفا نے "حَق" کو پھر اِمکاں لِکھا ہے
نہ دَولت سے، نہ قُوَّت سے، نہ تَلواروں کی دھَمکی سے
ضَمیرِ زِندہ نے آزادی کو قُرآں لِکھا ہے
مظہرؔ! وقت گواہی دے گا آنے والی نَسلوں کو
وَفا والوں نے خُون سے آزادی کا ساماں لِکھا ہے






