لکھنا آیا تو دل کی بات لکھ دوں گا

Poet: ہارون عباس By: ہارون عباس, Chiniot

لکھنا آیا تو دل کی بات لکھ دوں گا
اُس کو خوشی کی سوغات لکھ دوں گا

لکھوں گا خود کو خاردار کانٹے ہارون
اُس کو گل و باغات لکھ دوں گا

لکھوں گا اسے کوئی اُجلی ہوئی صبح
خود کو کوئی اندھیری رات لکھ دوں گا

لکھوں گا اُس کے سنگ بتائے ہوئے دن
اُس کے بن زندگی مدھم سی ایک رات لکھ دوں گا

لکھوں گا اُس کے ساتھ خوشیوں کی بوچھار
بغیر اُس کے غموں کی برسات لکھ دوں گا

لکھوں گا اُس کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات
اُس کے بن اپنی کیا اوقات لکھ دوں گا

لکھوں گا اُس کے بن ہارون اپنی موت
اُس کے ساتھ اپنی لمبی حیات لکھ دوں گا

لکھوں گا اُس کے سنگ خود کو موتی کے برابر
اُس کے بعد خود کو بس خاک لکھ دوں گا

Rate it:
Views: 364
22 May, 2022
Related Tags on Love / Romantic Poetry
Load More Tags
More Love / Romantic Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets