کوئی نہ ہو
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہجانِ جاں کوئی نہ ہو، جانِ جہاں کوئی نہ ہو
آہ سِینے میں کوئی، لب پر فُغاں کوئی نہ ہو
آؤ ڈُھونڈیں ہم محبّت، آؤ ڈُھونڈیں آدمی
خاک میں لِتھڑا نہِیں ہو، خُونچکاں کوئی نہ ہو
کون سُنتا ہے تُمہیں اے شاعرِ ناداں، کہ جب
کُچھ سلِیقہ ہی نہ ہو، طرزِ بیاں کوئی نہ ہو
ساتھ میرے چل پڑے ہو، فرض کرتے ہیں، اگر
راہ میں گُلشن نہ ہو، اور گُلستاں کوئی نہ ہو؟؟
ہم بھٹکتے پِھر رہے ہوں راستے میں اور، کل
کوئی مرقد، خانقاہ و آستاں کوئی نہ ہو
آئنے ٹُوٹے ہُوئے ہیں اور شکستہ صورتیں
اے مُصوّر جوڑ اِن کو یُوں، نِشاں کوئی نہ ہو
اُس نے یارو پاس رکھے ہیں امانت راز کُچھ
ڈر لگا ہے بے خیالی میں عیاں کوئی نہ ہو
ہم نے مانا دِل نے پالا تھا کوئی اِک پریم روگ
وہ جوانی کیا کہ جِس کی داستاں کوئی نہ ہو
ہر طرف تابانیاں ہیں، ہر طرف اِک روشنی
ہم جہاں پہنچے وہ حسرتؔ، کہکشاں کوئی نہ ہو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






