ادب سے ہو کے بھی نہیں سمجھے ہیں ادب کو جو
Poet: ✍️مظہرؔ اقبال گوندل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiادب سے ہو کے بھی نہیں سمجھے ہیں ادب کو جو
بے مروّت ہوشیار لوگ کبھی باادب نہیں ہوتے
کسی کے درد کی خاطر جو بنتے ہی نہیں ہمدم،
وہ دنیا میں محبت کا کوئی سبب نہیں ہوتے
عجب لوگوں کی بستی ہے، عجب دستور ہے یارو،
یہاں سچے سخن والے کبھی پرطرب نہیں ہوتے
حسب، نسب پہ اترانا کہاں کی ہے بزرگی پھر،
بڑے کردار والے لوگ اہلِ نسب نہیں ہوتے
ادب، اخلاص اور ایثار جن کے دل میں زندہ ہوں،
وہ لوگوں کے لیے باعثِ کوئی غضب نہیں ہوتے
رجب کی برکتوں سے جو منوّر ہو گئے دل سے،
وہ راہِ حق سے ہٹ کر کبھی بے سبب نہیں ہوتے
جو دولت کے نشے میں دوسروں کو کم سمجھتے ہیں
وہ چاہے صاحبِ زر ہوں، مگر باادب نہیں ہوتے
لعبِ دنیا میں کھو کر جو بھلا بیٹھیں خدا کو بھی،
وہ آخر کار منزل کے کبھی ہم عقب نہیں ہوتے
مظہرؔ یہ یاد رکھنا، عزتیں کردار دیتا ہے،
فقط حسب و نسب والے کبھی باادب نہیں ہوتے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






