بہت مشکل ھے
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaآسیب یار سے بچنا بہت مشکل ھے
زندہ زندان سے نکلنا بہت مشکل ھے
اسکی یادوں سے بنا زھر ھو یا امرت
گھونٹ گھونٹ کر پینا بہت مشکل ھے
عشق کا انجام جو ھے سب کو معلوم
رات بھر ستارے گننا بہت مشکل ھے
پاؤں میں لرزا ھے اور دل بے قابو
اسکے کوچے سے گزرنا بہت مشکل ھے
یار کے ھوتے ھوئے ا ے میر ے رب
حاصل تیری رضا کرنا بہت مشکل ھے
کھوئے سحاب سے پوچھو کے کیا گزری
انجان صحرا میں برسنا بہت مشکل ھے
خوشبو خوشبو کو لئے بکھرتی ھے
جگ میں یکتا جینا بہت مشکل ھے
لے کر سنیاس اس دنیا سے عارف
کسی کے نام کی مالا جپنا بہت مشکل ھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







