شعروں میں اپنا عکس ابھرتا ہوا بھی دیکھ
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillیادوں کے جھمگٹوں سے گزرتا ہوا بھی دیکھ
دل کو پل صراط پہ چلتا ہوا بھی دیکھ
دیکھی ہیں ابھی تو نے اناؤں کی بازیاں
راہوں میں مجھے اپنی بکھرتا ہوا بھی دیکھ
ہونٹوں پہ ایک ایک دعا چیخ رہی ہے
آنکھوں کے ساغروں کو چھلکتا ہوا بھی دیکھ
اے جان تیری شام بہت خوب ہے لیکن
سورج کو کسی روز نکلتا ہوا بھی دیکھ
کہتا ہے تیرے حسن سے ہر روز آئینہ
سینے میں کسی شے کو دھڑکتا ہوا بھی دیکھ
ہر زندگی تھی رقص میں جسکی اٹھان پر
آسوں کے اس شباب کو ڈھلتا ہوا بھی دیکھ
دیکھے ہیں بہت تو نے تماشے زوال کے
گر گر کےہمیں آج سبھلتا ہوا بھی دیکھ
ناؤ کی خستگی پہ گلہ میں نے سنا ہے
طوفاں کو میرے شوق سے ٹلتا ہوا بھی دیکھ
ہاتھوں میں دے کے ہاتھ چلو سوئے بہاراں
سینوں پہ مونگ شہر کو دلتا ہوا بھی دیکھ
کھوجو نہ فقط حسن تخیل کی ندرتیں
شعروں میں اپنا عکس ابھرتا ہوا بھی دیکھ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







