شعروں میں اپنا عکس ابھرتا ہوا بھی دیکھ

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

یادوں کے جھمگٹوں سے گزرتا ہوا بھی دیکھ
دل کو پل صراط پہ چلتا ہوا بھی دیکھ

دیکھی ہیں ابھی تو نے اناؤں کی بازیاں
راہوں میں مجھے اپنی بکھرتا ہوا بھی دیکھ

ہونٹوں پہ ایک ایک دعا چیخ رہی ہے
آنکھوں کے ساغروں کو چھلکتا ہوا بھی دیکھ

اے جان تیری شام بہت خوب ہے لیکن
سورج کو کسی روز نکلتا ہوا بھی دیکھ

کہتا ہے تیرے حسن سے ہر روز آئینہ
سینے میں کسی شے کو دھڑکتا ہوا بھی دیکھ

ہر زندگی تھی رقص میں جسکی اٹھان پر
آسوں کے اس شباب کو ڈھلتا ہوا بھی دیکھ

دیکھے ہیں بہت تو نے تماشے زوال کے
گر گر کےہمیں آج سبھلتا ہوا بھی دیکھ

ناؤ کی خستگی پہ گلہ میں نے سنا ہے
طوفاں کو میرے شوق سے ٹلتا ہوا بھی دیکھ

ہاتھوں میں دے کے ہاتھ چلو سوئے بہاراں
سینوں پہ مونگ شہر کو دلتا ہوا بھی دیکھ

کھوجو نہ فقط حسن تخیل کی ندرتیں
شعروں میں اپنا عکس ابھرتا ہوا بھی دیکھ

Rate it:
Views: 631
12 Dec, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL