(تونے ایک نہ مانی ساجن( خراج تحسین
Poet: fauzia By: fauzia, rykرفتہ رفتہ دل بھر جاتے ہیں مجھ کو بھی اقرار مگر
پہلی رات کی دلہن سے کیسی یہ بیزاری ساجن
کیا کیا نہ خاب سجا کر سیج تک تیری پہنچی تھی
پل بھر میں بھردی تونے ارمانوں میں ویرانی ساجن
پہلی رات کی دلہن کا گھونگھٹ بھی نہ اٹھایا
ایسی تم پہ حاوی ہے بھوربن کی رانی ساجن
رو نمائی میں ہجر کی رات تحفہ پا کر
دلہن کے دل پہ جو بیتی تونے نہ جانی ساجن
ان چاہی رات بھر جاگی دلہن کا دکھ
کون تجھے سمجھائے گا میرے سنگدل ساجن
کس کس سے چھپاوں گی کس کس کو سمجھاونگی
مہندی والے ہاتھوں میں پھیکے رنگ کی کہانی ساجن
شب وصل میں سنائیں ہجر کی سزائیں
کس سے کہوں میرا بہت ہےظالم ساجن
ہر پل سامنے رہ کر ہجر کا روگ لگاوگے
کیسے تڑپ چھپاوںگی جب چھلکا آنکھ سے پانی ساجن
شریک حیات ہوں اور مجھ سے سرو کار نہیں
لوگوں سے نہ کہہ دینا ہو جائے گی بدنامی ساجن
جو نہ مل سکا اس کے غم پہ غمزدہ
کیوں میرے دکھ کی رمق نہ جانی ساجن
ایسیبھی کیا کمی تی مجھ میں جو منظور نظر نہ ہو سکی
بات ذرا سی ہے سمجھانےمیں کیا گرانی ساجن
تو ہے مختار جسے چاہے بنالے اپنا
تیرے حق میں مجھ سے نہ ہوگی بے ایمانی ساجن
بچپن سے تیرے نام لگی تھی اور نہ تھی پہچان
اپنی بات سے مکر گئے تونے کیی رو گردانی ساجن
میرا لینے سے بھی وحشت کھاتے ہو
کیوںکر نہ دل جلے اور ہو پشیمانی ساجن
کتنا ضبط ہے مجھ میں پو چھو نہ
ہاتھ اپنے سجادونگی گر پزی تیری سیج سجانی ساجن
تیرا ہر ستم گوارا تیرا غم بھی مجھ کو پیارا
غم دل سے گھبرا کر میرے پاس آکردینا مہربانی ساجن
یہ نظم پاکستانی فلم گھونگھٹ سے اخذ شدہ ہے یہ خراج تحسین ہےمیڈم نور جہاں نیر سلطانہ اور سنتوش کمار کو
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






