تو شہ رگ سے ہمارے تو قریب اتنا رہا بھی ہے
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaتو شہ رگ سے ہمارے تو قریب اتنا رہا بھی ہے
مگر یہ فاصلہ بھی ہم سے نہ تو طے ہوا ہی ہے
بظاہر لوگ تو شکل و شباہت ٹھیک کرتے ہیں
مگر ہیں قلب سے غافل نظر جس پر تو تیری ہے
جہاں میں ہر گھڑی دیکھو تو انساں بڑھتے جاتے ہیں
مگر انسانیت تو ختم ہوتی ہی تو جاتی ہے
نصیحت کیجئے پر نہ کبھی شرمندہ کیجئے
کبھی دروازہ نہ توڑیں کہ دستک ہی ضروری ہے
نہ ہو کوئی تفاوت اپنے ظاہر اور باطن میں
جو ہو اندر وہ ہی باہر یہی تو اصل خوبی ہے
ملے گی اثر کو منزل جو ہمت وہ نہ ہارے گا
بلند ہو حوصلہ تو قدموں میں منزل بھی گرتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






