اس زندگی کی رہ پر، شکوے گلے مٹا کر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلااس زندگی کی رہ پر، شکوے گلے مٹا کر
ہم آگئے ہیں صاحب، لو کشتیاں جلا کر
کھلنے لگیں گی کلیاں،اڑنے لگے گی خوشبو
فرصت ملے تو تو بھی خود سے کبھی وفا کر
دریا کی ساری موجیں مناتی ہیں رنگ رلیاں
کرتے ہیں ہم محبت ساحل پہ گیت گا کر
جلتی ہیں تیری یادیں آنکھوں میں جیسے جگنو
راتوں کی کالی شاخیں چہرے سے سب ہٹا کر
خوابوں کی ناؤ آکے دل کے جزیرےٹھہری
مل جائیں آج ہم تم ،تو بھی یہی دعا کر
پلکوں پہ نیند کی اب ہوتی نہیں ہے دستک
بیٹھی ہوں کب سے وشمہ خود کو گلے لگا کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






