تیرا میرا ساتھ
Poet: wasif uz zaman katib By: wasif uz zaman, bhimber AJ&Kمیں تیرے سامنے اور تو میرے سامنے
گزرے یوں زندگی ، اور کیا چاہیے
نکلیں کسی انجان سفر پہ ہم دونوں
مل نہ پائے منزل ، اور کیا چاہیے
موسم ہو سہانا چوٹی ہو پہاڑ کی
نہ ہو کوئی تیسرا ، اور کیا چاہیے
تیرا میرا ساتھ ہو ہر طرف برسات ہو
ساحل ہو سمندر کا ، اور کیا چاہیے
پوری نہیں ہوتی ہر چاہت ہر انسان کی
مل جائے تو مجھے ، اور کیا چاہیے
مانے گا نہیں دنیا کی کبھی بھی کاتب
مانا ہے مجھے یار نے ، اور کیا چاہیے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






