تیرے بن اب داستانِ زندگی کے دور کیا
Poet: کرم ترابی By: Karam Turabi, Karachiتیرے بن اب داستانِ زندگی کے دور کیا
کیسی منزل,کیسے رستے,کیا سفر,موڑ کیا
ساری کلیاں,سارے گل اور خوشبو پھیکے ہیں
کون تتلی,کون بلبل,کیسی قمری,مور کیا
بے اجازت دل تو کیا,گھر میں کبھی آتا نہیں
میں مہذب شخص ہوں,سمجھا ہے مجھ کو چور کیا
کوئی اہلِ عقل ہو تو اک خموشی بہت ہے
کوئی سمجھے ہی نہیں تو کیا خموشی,شور کیا؟
پانچ کافوں کے توسط سے تعریف دی جیئے
کون؟کیوں؟کیسے؟کہاں سے؟ اور کیا؟
زور چلتا ہے وہاں,جہاں زور چلتا ہو کرم
سامنے جب یار ہو چلتا ہے پھر زور کیا؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






