تیرے غم میں اب میرا یہ حال ہو کر رہ گیا

Poet: کرم ترابی By: Karam Turabi, Karachi

تیرے غم میں اب میرا یہ حال ہو کر رہ گیا
زندگی سب بہہ گئی اور خالی قالب رہ گیا

زندگی تو وار ڈالی تھی بہت پہلے صنم
جو بچا تھا خون وہ اشق بن کر بہہ گیا

تو اگر میرا نہیں تو پھر کسی کا نہیں
جاتے جاتے اتنی سی وہ بات مجھ سے کہہ گیا

اپنے من کا بادشاہ جب آل والا ہو گیا
ذرّیت کے واسطے وہ کتنی مشکل سہہ گیا

تم نے پوچھا ہے کرم جو امتحانِ عشق کا
ہو گیا ہوں کامیاب بس! ایک پرچہ رہ گیا

زندگی تو وار ڈالی تھی بہت پہلے صنم
جو بچا تھا خون وہ اشق بن کر بہہ گیا

تو اگر میرا نہیں تو پھر کسی کا نہیں
جاتے جاتے اتنی سی وہ بات مجھ سے کہہ گیا

اپنے من کا بادشاہ جب آل والا ہو گیا
ذرّیت کے واسطے وہ کتنی مشکل سہہ گیا

تم نے پوچھا ہے کرم جو امتحانِ عشق کا
ہو گیا ہوں کامیاب بس! ایک پرچہ رہ گیا

Rate it:
Views: 895
31 May, 2020
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL