خداگری کا تجھے واسطہ ستم نہ کر
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinدم بدم تیرے دم سے بیدم نہ کر
خداگری کا تجھے واسطہ ستم نہ کر
باعثِ غم بھی وہ ہی ہمسفر و ہمدم بنا،
جو کہتا تھا بات بات پے غم نہ کر
آیا ہوں بعدِمدت تیرے مئیخانے میں،
سنگ دل نہ ہو آج کوئی جام کم نہ کر
سخن ور میں تو پیشوا ہے سب کا استاد،
یار کے گھر جانے میں کوئی شرم نہ کر
کھاک سے بنی کھاک کی کھاک ہوں میں،
اس کھاک سے تو خاص کچھ کم نہ کر
مہنگا نہ پڑے یہ فیصلا تجھے سفرِعدم،
احسن عہدِبودہ رکھ استوار عزم نہ کر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






