خدا کا نام لینے سے سکوں ملتا
Poet: مظہر اقبال گوندل By: مظہر اقبال گوندل , Karachi
خدا کا نام لینے سے سکوں ملتا تھا پہلے تو
مگر اب بے دلی والے بھی تسکین دیتے ہیں
جو ہر محفل میں ہنستا تھ وہی اب چپ سا رہتا ہے
خموشی میں چھپے آنسو مجھے تحریف دیتے ہیں
جنہیں اپنا سمجھ بیٹھ وہی اپنوں سے بڑھ کر تھے
کہ اب بیگانگی والے مجھے تشریف دیتے ہیں
کبھی محرابِ دل میں روشنی تھی ذکرِ حق سے پر
مگر اب شب کے سجدے بھی مجھے تردید دیتے ہیں
یہ دنیا امتحاں ٹھہری یہ دل تو خاک ہو بیٹھ
فنا کے بعد بھی شاید وہی تعریف دیتے ہیں
کبھی جو نعتِ سرور میں جھکے تھے ہم سراپا عشق
وہی لب اب خموشی سے مجھے تنقید دیتے ہیں
کبھی دل کی زمیں پر نور کی بارش ہوا کرتی
اب آیاتِ سکینہ بھی مجھے تخصیص دیتے ہیں
جہاں ہر درد کو میں حرفِ دعا کہتا تھا پہلے
وہی لب اب شکوہِ خاموش کی تمہید دیتے ہیں
میں اپنے زخم لے کر جب گیا دربارِ محبوبؐ
تو آنکھیں اشک دے کر مجھ کو تسکین دیتے ہیں
کسی دن بخش دے گا رب یہی امید ہے باقی
یہی امید کے سائے مجھے تحفے دیتے ہیں
مساجد میں جو سجدے کرتے تھے ہم رات بھر رو کر
ابھی تک وہ ہی لمحے مجھے تحسین دیتے ہیں
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






