خوشبوئے گل چمن میں تجھ سے ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاخوشبوئے گل چمن میں تجھ سے ہے
روشنی انجمن میں تجھ سے ہے
میں سخنور ہوں تیرے جوبن کی
تازگی سب سخن میں تجھ سے ہے
چھوڑ جاتی میں اپنے گاؤں کو
چین میرا وطن میں تجھ سے ہے
یہ جو رونق ہے باغِ ہستی میں
ساری رونق زمن میں تجھ سے ہے
رزمِ گاہِ حیات میں اب تک
حوصلہ تیغ زن میں تجھ سے ہے
روشنی ہے مرے تعاقب میں
سوچِ الفت یہ من میں تجھ سے ہے
پھول بکھرے ہوئے ہیں راہوں میں
سبز گپھا یہ بن میں تجھ سے ہے
تیری پلکوں پہ اوس کے موتی
زندگی یہ پَون میں تجھ سے ہے
چاند تارے یہ پھیلی قَوسِ قُزَح
وشمہ دیکھو گگن میں تجھ سے ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






