انہیں آتا ہے بس انکار کرنا

Poet: ابن مفتی - سید ایاز مفتی By: ابن مفتی - سید ایاز مفتی , Houston TX USA

انہیں آتا ہے بس انکار کرنا
ہمیں آتا نہیں اظہار کرنا

تمہیں تو جیسے ضد سی ہوگئی ہے
‎ہماری زندگی دشوار کرنا

گھڑا ہے ہاتھ میں اور جارہی ہوں
اسے کہتے ہیں دریا پار کرنا

نبٹنے جا رہا ہوں زندگی سے
زرا رخت ِ سفرتیار کرنا

‎اسے سینچا ہے میں نے اپنے خوں سے
نہ رشتوں کا محل مسمار کرنا

‎‎یہ اک دو کام تم کو آگئے ہیں
مجھے مشکل سے بس دوچار کرنا

ہمارے شیخ کے ذمے لگا ہے
مسلماں دین سے بیزار کرنا

لگا دی پھر سے قیمت زندگی کی
تمہیں تو آگیا بیوپار کرنا

‎‎نہ ہم سہہ پائیں گے انکار صاحب
خدارا سیکھ لو اقرار کرنا

اداکاری تو کرنی ہی نہیں ہے
ادا یوں تم کو ہے کردار کرنا

‎اڑائی ہے یہ مفتی نے ہوائی
‎بہت بیکار ہے "یہ پیار کرنا "

Rate it:
Views: 249
11 Apr, 2023
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL