دل کے ملبے سے ہم یادیں اٹھائیں کیسے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکیستان دل کے ملبے سے ہم یادیں اٹھائیں کیسے
ٹوٹے خوابوں کو نئی شکل دلائیں کیسے
عمر گزری ہے فقط خود کو مناتے ہوئے
ہم کسی اور کی خاطر مسکرائیں کیسے
زخم اتنے ہیں کہ چھپتے ہی نہیں آنکھوں سے
حالِ دل شہر کے لوگوں کو بتائیں کیسے
وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نبھاؤں گا عمر بھر
اب اسی شخص پہ ہم ناز اٹھائیں کیسے
خامشی اوڑھ کے جینا بھی تو آساں نہ ہوا
شورِ تنہائی کو سینے سے دبائیں کیسے
اپنے ہی سائے نے آخر ہمیں پہچانا نہیں
آئینہ بن کے خود وشمہ رخ دکھائیں کیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






