عشق پر ہجر کا کیسا ہے یہ چکر مجھ کو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachi عشق پر ہجر کا کیسا ہے یہ چکر مجھ کو
مر مٹی پر نہ ملی وصل کی چادر مجھ کو
میں نے چاہا تھا اسے ٹوٹ کے چاہوں لیکن
وہ چبھو تا رہا ہر زخم پہ نشتر مجھکو
میری پرواز پہ سرحد کی نہ بندش ہوتی
۔۔کاش اللہ بنا دیتا کبوتر مجھ کو
کوئی دشمن تو نہیں دوست ہی ہو سکتا ہے
جس نے بھی پیٹھ پر مارا ہے یہ خنجر مجھ کو
میں دلو ں جان لٹا سکتی تھی اس پر لیکن
نہ ملا کوئی مرے قد کے برابر مجھ کو
آج بھی ڈھونڈتی پھرتی ہوں میں صحراؤں میں
کاش مل جائے کوئی پیر قلندر مجھ کو
میں کوئی راہ کا پتھر تو نہیں ہوں وشمہ
اس طرح سے نہ لگا یار تو ٹھوکر مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






