قبول نہ ھوا
Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississaugaسوئے ھوئے نصیب کو جگانا قبول نہ ھوا
میری زیست کو شاید زمانہ قبول نہ ھوا
یہ پژ مردہ سا ھے خاموش ھے
اس دل کو دل کا لگانا قبول نہ ھوا
بہت اپنائیت کے دعو ے سنتے رھے سدا
تین حرف قبولیت کے دھرانا قبول نہ ھوا
درس وفاء کی محفل تھی ھم کو اٹھا دیا
دھیر ے سے ھمارا مسکرانا قبول نہ ھوا
سرگوشیوں میں کتنے پیام بھجتے رھے
صبح کے بھولے شام کو آنا قبول نہ ھوا
اپنے ھی اندر اندر بھٹکتے رھے عارف
کبھی بھی خود کو اپنا بنانا قبول نہ ھوا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






