مرے پہلو سے ہی نکلی تھی عورت۔۔ کیا سمجھے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillہے میری روح پہ اسکی طبیعت۔۔کیا سمجھے
اسی کا نام ہے اوج محبت ۔۔ کیا سمجھے
نہ کیوں محسوس مکمل کروں اسے پا کر
مرے پہلو سے ہی نکلی تھی عورت۔۔ کیا سمجھے
نگار دلبراں پہ سوچ کے سائے دیکھو
کسی نے کی تو ہے انکی شکائت۔۔ کیا سمجھے
جہاں کے سارے اجالے ہیں میری مٹھی میں
کہ میں نے جان لی اپنی مشیت ۔۔کیا سمجھے
یہی سوال کیا مجھ سے سدا فطرت نے
ہے تم پہ آشکارا سب حقیقت۔۔ کیا سمجھے
جی تو کرتا ہے تجھے تیرے مقابل کر دوں
وہ تو بس راستہ روکے شرافت۔۔ کیا سمجھے
میرے مقام کا انکار اے لے ڈوبا
کروڑوں سال تھی جس کی عبادت۔۔کیا سمجھے
اسی سے دیکھنا اک دن گلاب پھوٹیں گے
جو میں نے خون سے لکھی عبارت۔۔ کیا سمجھے
جسے تم پیار سمجھ کر ہوئے مجنوں ثانی
عین ممکن ہے کہ ہو اک شرارت۔۔کیا سمجھے
ہوئی ہیں تیز تیز دھڑکنیں؟ معلوم کرو
جگی ہے میٹھی میٹھی سی بغاوت؟ کیا سمجھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






