“ مجھے تم سے محبت ہے “
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillوہ بات اب کہہ بھی دو جاناں مجھے جسکی ضرورت ہے
وگرنہ ریت پہ لکھ دو “ مجھے تم سے محبت ہے “
میری آنکھوں کی جنبش سے جو لرزیں روپ کے ساغر
تو پھر دھیرے سے کہہ دینا “ یہ دیوانے کی وحشت ہے“
ابھی تو میں نے پلکوں کو جھکایا تھا تیرے در پر
شہر میں شور مچ اٹھا “ بغاوت ہے بغاوت ہے
تیری زلفوں تلے ہی بندگی کے بھید کھلتے ہیں
تیری مٹھی میں ہی شاید میرے خوابوں کی جنت ہے
جنہیں میں نے گرایا پھول کی بے رنگ ٹہنی پر
ذرا معلوم تو کرنا جو ان اشکوں کی قیمت ہے
کہاں لفظوں میں اتنی تاب کہ تم کو بیاں کر دوں
عشق کی انتہا اقبال کہہ اٹھا تھا “ حیرت ہے “
مدران خلا اب ڈھونڈتے ہیں اپنے کروں کو
تمہاری راہگزر بھی چاند تاروں کی شرارت ہے
نظر کو زندگی بخشو یا سانسوں کو فنا کر دو
سبھی منظور ہے مجھکو تمہیں ہر اک اجازت ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






