مجھے جینے کا سہارا کر لو
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwala مجھے جینے کا سہارا کر لو
ساتھ میرا پھر تم گوارا کر لو
خطائیں سب بھلا دو میری
ساتھ میرے ہی تم گزارا کر لو
یہ دل جو سنبھالے پھرتے ہو
اسے پھر سے تم آوارہ کر لو
وہ جو رہ گیا دیکھنا باقی
اس کا بھی اب تم نظارہ کر لو
وقت دو اپنا مجھے سارا اور
آنکھوں کا اپنی تم تارا کر لو
جو چاہتے تھے، مل چکا سب
رشتوں سے اب تم کنارہ کر لو
جب بھی بلانا ہو چاہت سے
بس میری طرف تم اشارہ کر لو
مجھے کہہ دو اپنا پھر اور
محبت میں پھر تم خسارہ کر لو
توڑ دو پرانے سب رشتے ناتے
خود کو پھر سے تم ہمارا کر لو
مطلب یہ کہ مجھ سے عمراؔن
وہ پہلا سا عشق تم دوبارہ کر لو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






