یہ جو بنی تیری میری کہانی ہے
Poet: Imran Nazeer By: Imran Nazeer, Gujranwalaیہ جو بنی تیری میری کہانی ہے
صرف دوسروں کی منہ زبانی ہے
لکھنا نہیں آتا کوئی قصہ مجھ کو
نہ ہی اشعار میں میرے روانی ہے
مصور بھی نہیں اچھا کوئی میں
لیکن مجھے تیری صورت بنانی ہے
ذلفیں سنوارنی ہیں سیاہ لمبی
لگے کسی شہنشاہ کی رانی ہے
لا کر کوہ طور سے مٹی پاکیزہ وہ
مجھے تیری آنکھوں میں سجانی ہے
چرانا ہے قوس قزح سے رنگوں کو
تیرے گالوں پہ لالی بھی لگانی ہے
ماتھے پہ تیوری لانا ہے بڑا مشکل
بارہا کرنے پر ہی مہارت یہ آنی ہے
تمہیں چاند سا منور بھی تو کرنا ہے
پھر فلک پر بھی اک نظر دوڑانی ہے
بنا کر حسینائوں سے حسیں تر
مجھے تجھ سے ہی مات کھانی ہے
دکھا کے ترا چہرہ جھرنے کو عمراؔن
مجھے آج پانی میں آگ لگانی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






