میری نظر سے خود کو پیار کرو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہوتے ہیں دن میں
چوبیس گھنٹے تو
تم ہر پل کو
محسوس کرو
اور ہر پل میں
میری نظر سے
خود کو تلاس کرو
میری نظر سے
اپنا دیدار کرو
میری نظز سے
اپنی ہر بے رخی برداشت کرو
میری نظر سے
اپنا انتظار کرو
میری نظر سے
خود کو پیار کرو
تو شاید ! جان جاؤ گئے
کہ میں اک دن میں
اداس کیوں ہو جاتی ہوں
تیری خاموشی پے
کیوں پریشان ہو جاتی ہوں
کیوکہ وہ تیرے لیے
ایک دن ہوتا ہیں
اور میرے لیے
صدیوں سے کم نہیں ہوتا ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






