میرے سجدوں میں کوئی لمحۂ دیدار ملے
جیسے سینے میں کوئی رازِ پرستار ملے
کاش اُٹھتے ہی ہو آہٹ کوئی شب کے پچھلے پہر
در کھلا ہو، تو مجھے سایۂ دیوار ملے
کوئی خوشبو جو بکھر جائے ہواؤں میں کبھی
اُس کے ہوتے ہوئے پھر مرا دلدار ملے
دل کی ویرانی میں اک شور بپا رہتا ہے
میرے لفظوں میں کہیں ایک ہنر دار ملے
خواب میں مجھ کو نظر آتے ہیں لمحاتِ وصل
یہ دعا ہے مری آنکھوں میں کوئی پیار ملے
میرے آنسو مرے رخسار پہ ٹھہرے ہیں عدیل
اور اشکوں میں کوئی نقشِ گرفتار ملے