میں روٹھا تو اس نے مجھے منایا بھی نہیں
Poet: ثقلین گیلانی By: Saqlain , Attock میں روٹھا تو اس نے مجھے منایا بھی نہیں
وہ مجھ سے کرنے لگا ہے نفرت بتایا بھی نہیں
میں نے اس کو چاہا دل و جان سے یارو
ابھی تو اس کو میں نے آزمایا بھی نہیں
کیا کروں کہ میری فطرت میں ہے وفا کرنا
بے وفائی کا بوجھ میں نے کبھی اٹھایا بھی نہیں
برسوں سے جو بنا ہے میرے من کا شہنشاہ
اس دلربا کو ہم نے سمجھایا بھی نہیں
برداشت نہ کر پائیں گے دوری اپنے یار کی
کہ اس کے بن دل میں کوئی سمایا بھی نہیں
ثقلین تو بھی چل اب اس دنیاۓ فانی سے
جو چل دیا اس دنیا سے واپس کبھی آیا بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







