نشاں حسرت کے سب کے سب دسمبر چھوڑ جائے گا
Poet: وشمہ خان ؤشمہ By: وشمہ خان ؤشمہ, نیویارکنشاں حسرت کے سب کے سب دسمبر چھوڑ جائے گا
مجھےپورا یقیں ہے اب دسمبر چھوڑ جائے گا
مجھے موہوم سی امید تھی اک ساتھ رہنے کی
مگر دیکھو مجھے اس شب دسمبر چھوڑ جائے گا
تری یادوں میں مشکل سے مرا یہ سال گزرا ہے
تری یادوں کو پھر یہ اب دسمبر چھوڑ جائے گا
اگرچہ بھول جائے گا تری نظمیں ، تری غزلیں
مگر کچھ گیت زیر لب دسمبر چھوڑ جائے گا
چلو وشمہ محبت کے لئے قربان ہوجائیں
نہ جانے کس سمے یہ کب دسمبر چھوڑ جائے گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






