Mujhay Tum Yaad Aati Ho

Poet: S. Sadia Amber Jilani. By: Syeda Sadia Amber Jilani, FaisalAbad, Punjab, Pakistan.

Mujhay Sardio'n Ki Sard Shaamo'n Mein
Jab Khamoshi Raaj Karti Hy
Aur Aawaz Apnay Bistar Mein
Jaisay Jaa Chupti Hy
Be-Aawaz Dabay Pao'n
Mujhay Tum Yaad Ati Ho!!
Jaisay Ansoo Behta Hy
Jaisay Saans Chalti Hy
Be-Manzil Say Musafir Ko
Jaisay Raah Millti Hy
Jaisay Hassti Meri
Mujhay Tanhaa Pati Hy
Mujhay Tum Yad Aati Ho!
Sardio'n Ki Shaamo'n Mein
Dard Ki Uthaano'n Mein
Jab Chaand Aur Taaray
Falak Pay Muskuratay Hain
Hawaa Band Daricho'n Pay
Holay Say Haath Rakhti Hy
Mujhay Tum Yaad Aati Ho!
Sardio'n Ki Sard Shaamo'n Mein!!
Phool Jab Khushboo Say
Koi Gazal Kehta Hy
Khiyaal Jab Lafaz Mein
Sachaai Ban K Dhaltaa Hy
Unhi Akeeli Raahun Par
Yaado'n Ki Mundairo'n Par
Ik Aahat Mujh Say Kehti Hy
Mujhay Tum Yaad Aati Ho!
Muhabato'n Ki Chaao'n Mein
Udaassi Ki Sadaao'n Mein
Tanhai Ki Intahaao'n Mein
Be-Bassi Ki Duao'n Mein
Ik Weham Ho Guzarta Hy
Jaisy Tum Aati Ho
Mujhay Tum Yaad Ati Ho!
Sardio'n Ki Sard Shaamo'n Me!!
Jab Chaan Batee'n Karta Hy
Aur Raat Sitaray Ginti Hy
Khanak Hawa Dheery Say Zara
Lehra K Khushboo Lati Hy
Har Cheez Jaisay Naam Le Kar
Tumhy Sada Deti Ho
Mujhay Tum Yaad Aati Ho!
Sardio'n Ki Sard Shaamo'n Mein
Mujhay Tum Yaad Aati Ho!!!
 

Rate it:
Views: 581
30 Dec, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL