وفا کی راجدھانی سے، کبھی اپنی جوانی سے
Poet: By: وشمہ خان وشمہ, منیلا
وفا کی راجدھانی سے، کبھی اپنی جوانی سے
یہ دنیا جلتی رہتی ہے تری میری کہانی سے
تری دنیا میں آ جاؤں ،ترے اندر سما جاؤں
مچا دوں دنیا میں ہلچل فقط شعلہ بیانی سے
میں اب بھی یاد میں اس کی ندی نالے بناتی ہوں
ابھی بھی خوشبو آتی ہے مجھے نہروں کے پانی سے
کبھی ملتے نہیں بچھڑے ہوئے دریا سمندر سے
کبھی آتے نہیں گزرے زمانے زندگانی کے
مری آنکھوں کی دنیا کو وہ کیسے بھول سکتا ہے
محبت کے زمانے تھے سنہرے ، شادمانی کے
مری غزلوں کے خدوخال سب اس نے بنائے ہیں
اسی کے ہاتھ سے مہکے شگوفے رات رانی کے
غموں کے شاخسانے ہیں ، جدائی کے بہانے ہیں
بچا کچھ بھی نہیں وشمہ محبت کی نشانی کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






