ٹھان لیتے ہیں جو عہد وفا نبھانے کی
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, MPK ٹھان لیتے ہیں جو عہد وفا نبھانے کی
پھر وہ پرواہ نہیں کرتے زمانے کی
ہم ہو لیے ہیں تیرے ساتھ جب۔۔۔
پھر کیا ضرورت ھے اور آزمانے کی؟
پہلے سے الجھے ہیں باھمی رشتے دیکھ۔
تم مزید کوشش نہ کرو گرہ لگانے کی۔۔
ابھی تو ابتدا میں ھے باھمی دشمنی۔۔۔
اتنی جلدی کیا ھے ہاتھ ملانے کی۔؟؟
خاک رشتون پر ایسے جو برائے نام ہوں۔
خاک ان پر جو کوشش کریں عذئیت پہچانے کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






