پاس ہو کر بھی کوئی دور لگتا ھے
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, میر پورخاص۔۔۔ پاس ہو کر بھی کوئی دور لگتا ھے
کیا کہوں کس قدر مجبور لگتا ھے
اس کو ہم سے محبت ھے یقینن۔
ہاں مگر تھوڑا ضدی مغرور لگتا ھے۔
کیا کمال حسن ھے وہ بینظیر چہرہ۔
سب سے الگ یعنی چشم بدور لگتا ھے
دل چاھتا ھے بس اسے دیکھتا رہوں۔
وہ جو سامنے بیٹھا ماہ نور لگتا ھے۔
دل بڑا خوش ھے آج اسے پا کر۔۔۔
پیار کر کیا ہی ظالم مسرور لگتا ھے۔
کیا یہ خوشی کے آنسو ہیں یا کچھ اور۔
یا پھر کوئی غموں سے اسد چور لگتا ھے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






