کلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiکلامِ دل سے نکالی کتاب ہے جناب کی
چراغِ حَرف میں جلتی شتاب ہے جناب کی
نظر میں عکسِ اُلفت ہے، شباب ہے جناب کی
جو موجِ زیست میں آئی، شراب ہے جناب کی
اَدب کی راہ میں روشن، شہاب ہے جناب کی
جو حَرف حَرف میں ڈھلتی نِصاب ہے جناب کی
دُعائیں بانٹنے والا، خطاب ہے جناب کی
جو َلب پہ آ کے رُکے وہ، گلاب ہے جناب کی
کہاں سے آئے یہ خوشبو؟ نقاب ہے جناب کی
جو عکس بن کے چمکتی، وہ آب ہے جناب کی
وہ جس کے ذِکر سے مہکے، سحاب ہے جناب کی
جو دھڑکنوں میں اُترتی، وہ تاب ہے جناب کی
سخن کے رنگ میں ہر بات، خواب ہے جناب کی
جو دل پہ اترے وہ نازک، جواب ہے جناب کی
جو لوحِ وقت پہ مظہرؔ، حساب ہے جناب کی
وہ سَطر سَطر جو چمکے، کتاب ہے جناب کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






