نہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے

Poet: ✍️مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachi

نہیں ہم میں کوئی ان بن، نہیں ہے
بس اتنا ہے کہ اب وہ من نہیں ہے

نہ کوئی رنج باقی، نہ شکایت
محبت ہے مگر روشن نہیں ہے

میں اپنے آپ کو سلجھا رہا ہوں
تمہیں لے کر کوئی الجھن نہیں ہے

تعلق کی رمق باقی تو ہے پر
وہ پہلے جیسی کوئی دھن نہیں ہے

کبھی جو آنکھ میں ٹھہرا ہوا تھا
اب اُس آنکھوں میں وہ ساون نہیں ہے

میں تنہا ہوں مگر یہ بھی حقیقت
تمہاری یاد سے دامن نہیں ہے

نہ اشکوں کی وہ پہلی سی روانی
نہ دل میں اب کوئی دھڑکن نہیں ہے

یہ خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے
مگر اس میں کوئی پنہاں نہیں ہے

بچھڑ کر بھی عجب رشتہ رہا ہے
کہ دل خالی ہے، پر ویران نہیں ہے

تمہیں سو بار چاہا دل نے لیکن
تمہارے دل میں وہ چاہت نہیں ہے

مظہرؔ اب یہ حقیقت مان بھی لو
یہی کافی ہے، کوئی ان بن نہیں ہے

Rate it:
Views: 20
23 Apr, 2026
More Love / Romantic Poetry