ہمیں شکوہ نہیں قسمت کے لکھے افسانے سے
Poet: مظہرؔ اِقبال گوندَل By: MAZHAR IQBAL GONDAL, Karachiہمیں شکوہ نہیں قسمت کے لکھے افسانے سے
ہمیں زخم آشنا ہیں وقت کے ہر امتحانے سے
کئی وعدے تھے جو ٹوٹے ہمیں ہنس کر گرانے سے
ہماری سادگی ہاری ہمیشہ مسکرانے سے
جلے ہیں خواب آنکھوں میں کئی سچ کو بچانے سے
لہو ٹپکا ہے لفظوں سے حقیقت کو چھپانے سے
ہمیں معلوم ہے کیا کچھ ملا اس بے وفائی میں
شکوے ہیں بہت اپنے بے درد زمانے سے
ہمیں فرصت نہیں ملی کبھی زخموں کو سہلانے سے
یہ دل تھک سا گیا ہے بارہا خود کو جلانے سے
کبھی آواز دی ہم نے وفا کو آزمـانے سے
مگر لوٹا نہیں کوئی بھی ٹوٹے آستانے سے
مظہرؔ سچ کی قیمت کم ہی ملے گی اس جہاں میں
یہی انجام ہوتا ہے یہاں حق کو کمانے سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






