خاموشیوں نے لکھ دی تفسیرِ داستاں کی

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, پاکستان

خاموشیوں نے لکھ دی تفسیرِ داستاں کی
لفظوں میں اب کہاں وہ طاقت ہے زباں کی

ہم آئینے میں خود کو پہچانتے نہیں ہیں
یہ بھی نئی علامت ہے شہرِ امتحاں کی

آن لائن مسکراہٹ، آنکھوں میں ہے ویرانی
کیا قیمت اب رہی ہے خوابوں کے آشیاں کی

سچ بولنا بھی اب تو اک فن سمجھ لیا ہے
یہ سوچ کس نے بدلی اہلِ حکمراں کی

محنت تو روز ہوتی ہے، نام کوئی اور لے
قسمت میں پھر بھی لکھی محنت باغباں کی

گلشن ہرا بھرا ہے تصویروں کی حدوں تک
اندر سے مر رہی ہے مٹی اس گلستاں کی

ٹوٹے ہوئے پروں سے اُڑنے کی ضد ہے وشمہ
باقی ہے کچھ نشانی شاید آشیاں کی

Rate it:
Views: 142
01 Feb, 2026
More Love / Romantic Poetry