قید پری
Poet: ملائکہ محمود By: Malayka Mehmood, Mandibahauddinبہت سنجیدہ، دلیر بھی ہے
حسیں بلا کا، جوان لڑکا
بھلا ہے دیتا وہ باتیں اکثر
سنائی جائیں اسے جو در در
وہ چپ ہے رہتا، نہیں ہے کہتا
وہ کچھ کسی سی
مگر کبھی وہ اندھیرے کوٹھے میں
اپنے سر کو یوں کہنیوں پہ
جھکائے بیٹھا وہ روتا بھی ہے
وہ روتا ہے اس پری کی خاطر
کہ جس کے مالک نے بن خطا کے
ہے کوح شاہاں میں قید رکھا
ہیں کٹ چکے اب تو پر بھی اس کے
اڑان اب نہ وہ بھر سکے گی
مگر ہے آس اس کو اک شہزادہ
ضرور اک دن سفید گھوڑے پہ
کوح شاہاں میں آ گھسے گا
وہ لڑ پڑے گا زمانے بھر سے
ہے میری دنیا، ہے میرا سب کچھ
نہ کہنا کچھ بھی میری پری کو
ہے شوق اتنا ہی قید کا تو
لو پکڑو مجھ کو، رکھو وہیں پہ
جہاں پہ میری پری ہے رہتی
More Love / Romantic Poetry






