Ab Apnii Jaldbaazi Par Bohat Afsos Hotaa Hai
Poet: Zeeshan By: Shanzee, karachiMuhajir Hain Magar Ham Ek Duniya Chhor Aaye Hain
Tumhaare Paas Jitna Hai Ham Utnaa Chhor Aaye Hain
Hansi Aati Hai Apni Hi Adaakari Pe Khud Hamko
Bane Phirte Hain Yusuf Aur Zulekha Chhor Aaye Hain
Jo Ek Patli Sadak Unnao Se Mohaan Jaati Thi
Vahiin Hasrat Ke Khwabon Ko Bhatakta Chhor Aaye Hain
Vazu Karne Ko Jab Bhii Baithte Hain Yaad Aata Hai
Ki Ham Ujlat Men Jamna Ka Kinaara Chhor Aaye Hain
Utaar Aaye Murawwat Aur Ravaadaari Ka Har Cholaa
Jo Ek Saadhu Ne Pahnaai Thii Maalaa Chhor Aaye Hain
Khayaal Aata Hai Aksar Dhuup Men Baahar Nikalte Hii
Ham Apne Gaaon Men Pipal Kaa Saaya Chhor Aaye Hain
Zamiin-E-Naanak-O-Chishtii, Zabaan-E-Ghalib-O-Tulsi
Ye Sab Kuchh Paas Thaa Apne, Ye Saara Chhor Aaye Hain
Duaa Ke Phool Pandit Ji Jahaan Taqsiim Karte The
Galii Ke Mor Par Ham Vo Shivaala Chhor Aaye Hain
Bure Lagte Hain Shaayad Is Liye Ye Surmaii Baadal
Kisii Ki Zulf Ko Shaanon Pe Bikhraa Chhor Aaye Hain
Ab Apnii Jaldbaazi Par Bohat Afsos Hotaa Hai
Ki Ek Kholi Kii Khaatir Raajvaara Chhor Aaye Hain
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






